میں اپنے ان گلہائے عقیدت کو جو بیاد پیر روشن ضمیر، مرشد بے نظیر، فقیر با تاثیر، خواجہ پر تنویر، بدر منیر، دستگیر، آفتاب پنجاب، عالیجناب، قبلہ عالم، سید میران پیر برکت علی شاہ صاحب خلجیانی قدس سرہ العزیز صفحاتِ قرطاس پر بکھیرے ہیں، بتمام ادب و احترام حضرت فیضِ درِجت پیر طریقت سید سردار علی شاہ صاحب دامت برکاتهم العالیہ سجادہ نشین کی نذر کرتا ہوں۔
اللہ ربّ العزت کا شکر ہے جس نے اپنے خاص بندوں کے قلوب کو اپنے نور سے منور فرمایا، اور ان کے ذریعے دنیا کو ہدایت و معرفت کی روشنی عطا فرمائی۔ صلوٰۃ وسلام ہو سرورِ دو عالم، خاتم النبیین، حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر، جن کی غلامی ہی اصل افتخار ہے، اور جن کی سنت ہی راہِ نجات۔
یہ کتاب "تجلیاتِ خلچیاں" دراصل ایک ایسا روحانی آئینہ ہے جس میں سلسلہ چشتیہ برکاتیہ خلچیاں کے مشائخِ کرام کی تجلیات، تعلیمات، کرامات اور فیوض و برکات کا عکس نظر آتا ہے۔ اس کتاب کی پہلی اشاعت جنوری 1969ء میں "تجلیاتِ برکت" کے عنوان سے ہوئی، جو کہ حضرت پیر سید برکت علی شاہ رحمۃ اللہ علیہ کے فیضِ باطن کا ایک جھلکتا ہوا مظہر تھی۔
نو برس بعد یہ نایاب ہو چکی تھی، لیکن اہلِ دل کی پیاس بجھ نہ سکی۔ وقت کے ساتھ اس کی طلب میں اضافہ ہوتا رہا، حتیٰ کہ حضرت سجادہ نشین سید منیر احمد شاہ صاحب کی نگرانی میں اس کی دوسری اشاعت 1978 میں عمل میں لائی گئی، تاکہ فیض کا یہ چشمہ پھر جاری ہو جائے۔
اب، تقریباً 47 سال بعد، جب دنیا مادیت کے اندھیروں میں گم ہے، روحانیت کی یہ شمع ایک نئے رنگ، نئے نام اور وسیع تر روحانی افق کے ساتھ "تجلیاتِ خلچیاں" کے عنوان سے پھر روشن کی جا رہی ہے۔ یہ سعادت حضرت قبلہ پیر سید سردار علی شاہ رحمۃ اللہ علیہ کے پوتے، اور پیر سید منیر احمد شاہ صاحب کے فرزندِ ارجمند، حضرت سید قطب الدین شاہ کی عنایت، توجہ اور حکم سے حاصل ہوئی ہے۔
یہ کتاب نہ صرف ماضی کی یادگار ہے بلکہ حال و مستقبل کے لیے ایک روحانی رہنما بھی ہے۔ اس میں شامل اشعار، ملفوظات، سوانح، اور دیگر نکات اہلِ دل کے لیے سرمایہِ یقین و محبت ہیں۔ ہمارا یقین ہے کہ یہ کتاب قلوب کو منور کرے گی، اذہان کو روشن کرے گی اور محبتِ اولیاء سے سرشار کر دے گی۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ "تجلیاتِ خلچیاں" کو مقبولیتِ عامہ عطا فرمائے، اور اس کے توسط سے سلسلہ چشتیہ خلچیاں کے فیوض و برکات ہر دل تک پہنچیں۔
آمین
نبی ﷺسلام علیک یا رسولﷺ سلام علیک
یا حبیب سلام علیک صلوٰۃ اللہ علیک
ہو مبارک اہلِ عصیاں ہو گیا بخشش کا ساماں
آ گئی صبح بہاراں ہو گیا گھر گھر چراغاں
یا نبی ﷺسلام علیک یا رسولﷺ سلام علیک
یا حبیب سلام علیک صلوٰۃ اللہ علیک
جشن میلاد النبیؐ ہے نور کی چادر تنی ہے
روشنی ہی روشنی ہے ہر طرف یہ دھوم مچی ہے
یا نبی ﷺسلام علیک یا رسولﷺ سلام علیک
یا حبیب سلام علیک صلوٰۃ اللہ علیک
تم حبیبِ کبریاہو اور امام الانبیاء ہو
دو جہاں کے پیشوا ہو شافع روزِ جزاہو
یا نبی ﷺسلام علیک یا رسولﷺ سلام علیک
یا حبیب سلام علیک صلوٰۃ اللہ علیک
مرضِ عصیاں کو مٹانا نیک مجھ کو تم بنانا
راہ سنت پر چلانا اپنی الفت میں گمانا
یا نبی ﷺسلام علیک یا رسولﷺ سلام علیک
یا حبیب سلام علیک صلوٰۃ اللہ علیک
آخری لمحے جب آئیں کاش وہ تشریف لائیں
اپنے جلووں میں گمائیں جھوم کرہم گنگنائیں
یا نبی ﷺسلام علیک یا رسولﷺ سلام علیک
یا حبیب سلام علیک صلوٰۃ اللہ علیک
رحمتوں کے تاج والے دو جہاں کے راج والے
عرش کی معراج والے عاصیوں کی لاج والے
یا نبی ﷺسلام علیک یا رسولﷺ سلام علیک
یا حبیب سلام علیک صلوٰۃ اللہ علیک
آمنہ بی بی کا جایا بارہوی تاریخ آیا
صبح صادق نے سنایا صلوۃاللہ علیک
یا نبی ﷺسلام علیک یا رسولﷺ سلام علیک
یا حبیب سلام علیک صلوٰۃ اللہ علیک
کاش حاصل ہو حضوری دور ہو جائے یہ دوری
دیکھ لوں وہ شکلِ نوری دل کی حسرت ہو پوری
یا نبی ﷺسلام علیک یا رسولﷺ سلام علیک
یا حبیب سلام علیک صلوٰۃ اللہ علیک
تم شفیع المذنبیں ہو سرور دنیاودیں ہو
صادق الوعدوامیں ہو رحمت اللعالمیں ہو
یا نبی ﷺسلام علیک یا رسولﷺ سلام علیک
یا حبیب سلام علیک صلوٰۃ اللہ علیک
جان کر کافی سہارا لے لیا ہے در تمہارا
خلق کے وارث خدارا لو سلام اب تو ہمارا
یا نبی ﷺسلام علیک یا رسولﷺ سلام علیک
یا حبیب سلام علیک صلوٰۃ اللہ علیک
مصطفیﷺخیرالوریٰ ہو سرورِ ہر دوسراہو
اپنے اچھوں کا تصدق ہم بدوں کو بھی نبھاہو
یا نبی ﷺسلام علیک یا رسولﷺ سلام علیک
یا حبیب سلام علیک صلوٰۃ اللہ علیک
از طفیلِ غوث اعظم گنج بخشِ فیض عالم
صدقہء امام اعظم دور ہوں سبھی کے رنج و غم
یا نبی ﷺسلام علیک یا رسولﷺ سلام علیک
یا حبیب سلام علیک صلوٰۃ اللہ علیک
سید برکت علی شاہ، حضرت شاہ محمد شاہ کے بیعت یافتہ تھے۔ آپ پانچ وقت کی نماز کے پابند اور تلاوتِ قرآنِ کریم میں مشغول رہنے والے بزرگ تھے۔ آپ ایک عرصے تک اسکول میں بطور استاد خدمات انجام دیتے رہے اور مسجد میں بھی علمِ دین کی تدریس کیا کرتے تھے۔
سید سردار علی شاہ آپ کے رشتہ دار تھے اور آپ کے پاس اکثر آتے جاتے رہتے تھے۔ چونکہ وہ ڈاک خانے میں کام کرتے تھے، اس لیے کبھی خطوط لاتے یا دیتے بھی تھے۔
سید برکت علی شاہ، سردار علی شاہ سے نہایت محبت کرتے تھے اور انہیں اپنی اولاد کی طرح چاہتے تھے۔ آپ انہیں علمِ دین کی تعلیم بھی دیتے رہتے تھے۔
جب سید برکت علی شاہ کا وصال ہوا، تو ان کے چہلم کے موقع پر گدی نشینی کے فیصلے کا وقت آیا۔ اس وقت سردار علی شاہ ڈاک خانے میں ملازم تھے۔ جب آپ ڈاک تقسیم کر کے گھر لوٹے، تو آپ کی والدہ نے فرمایا:
یہ ایک اشارہ تھا جس میں روحانی وراثت کی طرف اشارہ موجود تھا۔ جب آپ خانقاہ میں پہنچے تو دیکھا کہ مجمع لگا ہوا ہے۔ آپ کو اندر جگہ نہ ملی تو جوتیوں پر کھڑے ہو کر وہیں بیٹھ گئے۔ گدی نشینی کے فیصلے کے لیے میاں علی محمد خان صاحب بسی شریف والے کو بلایا گیا، جو شاہ محمد شاہ کے دستِ بیعت تھے۔
میاں صاحب نے فرمایا:
جب وہ مزارِ اقدس پر پہنچے، تو آپ نے مراقبہ کیا۔ اس روحانی مراقبہ میں آپ کو ایک چہرہ دکھایا گیا اور نام بھی بتایا گیا۔ واپسی پر جب میاں صاحب مسجد میں آئے، تو فرمایا:
پہلا سردار آیا -- فرمایا: "یہ نہیں۔"
دوسرا آیا -- فرمایا: "یہ بھی نہیں۔"
پھر آپ خود تمام صفوں میں گھومنے لگے۔ جب آخری صف میں پہنچے، تو ایک شخص کو جوتیوں پر بیٹھا پایا۔ اسے آگے بلایا، اور پوچھا:
میاں صاحب نے فرمایا:
یوں سید سردار علی شاہ کو ولایت و خلافت کی گدی عطا کی گئی۔ لیکن کچھ مخالفین نے اس فیصلے پر اعتراض کیا اور دعویٰ کیا کہ گدی کے اصل حق دار وہ ہیں۔ نتیجتاً انہوں نے سردار علی شاہ کے خلاف عدالت میں مقدمہ دائر کر دیا۔ سردار علی شاہ نے مسلسل 12 سال تک عدالتوں میں یہ مقدمہ لڑا -- اور آخرکار کامیاب و سرفراز ہو کر گدی کے حقدار قرار پائے۔
اسی دوران برصغیر کی تقسیم ہو گئی۔ سکھوں نے مسلمانوں پر ظلم و ستم کی لہر چلا رکھی تھی۔ جب آپ بہار سے پاکستان تجارت کے لیے روانہ ہوئے، تو سکھوں کے حملوں کا خطرہ تھا۔ چند لوگ آپ کے پاس آئے اور کہا:
آپ نے برکت علی شاہ کے مزار سے چادر مبارک اتاری اور دو اینٹیں لیں: ایک قافلے کے آگے والے شخص کو دی، اور دوسری پیچھے والے کو۔ جب قافلہ روانہ ہوا، تو جو بھی سکھ حملہ آور آتا، وہ اندھا ہو جاتا۔ یوں آپ نے قافلے کو بخیر و عافیت پاکستان پہنچایا۔
آپ نے ضلع سرگودھا کے چک نمبر 120 میں سکونت اختیار کی اور ذکرِ الٰہی میں مصروف ہو گئے۔ یہاں آپ کی روحانی مجالس، وعظ، اور ذکر کی محفلیں قائم رہیں۔ آپ ہر سال برکت علی شاہ کی چادر مبارک سے عرس کی محفل منعقد فرماتے رہے جو 70 سال تک جاری رہا۔
سید سردار علی شاہ کے دو بیٹے تھے۔ آپ نے اپنی حیاتِ مبارکہ میں ہی ان دونوں کو شہزادہ مقرر کیا۔ آپ کے وصال کے بعد کچھ ہی عرصہ میں آپ کے بڑے صاحبزادے کا بھی وصال ہو گیا، اور پھر خلافت آپ کے چھوٹے بیٹے کو عطا کی گئی۔
ﺳﺮدار ﻋﻠﯽ ﺷﺎہ رﺣﻤﺘﮧ اﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﮐﯽ ﺑﮯ ﺷﻤﺎر ﮐﺮاﻣﺎت ﻣﺸﮩﻮر ﮨﯿﮟ، ﻟﯿﮑﻦ اﯾﮏ واﻗﻌﮧ ﺧﺎص ﻃﻮر ﭘﺮ اﮨ ﻞِ دل ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺑﺎﻋ ﺚِ اﯾﻤﺎن اﻓﺮوزی ﮨﮯ۔ ﻓﺮﻣﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ اﯾﮏ ﺑﺎر آپ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎن ﮐﮯ ﺿﻠﻊ ﻣﯿﺎﻧﻮاﻟﯽ ﻣﯿﮟ ﺗﺸﺮﯾﻒ ﻓﺮﻣﺎ ﺗﮭﮯ۔ وﮨﺎں اﯾﮏ ﻧﯿﮏ اور دﯾﻦ دار ﺑﺰرگ ﺧﺎﻧﺪان ﻣﻘﯿﻢ ﺗﮭﺎ، ﺟﻮ ﻃﻮﯾﻞ ﻋﺮﺻﮯ ﺳﮯ اوﻻد ﺟﯿﺴﯽ ﻧﻌﻤﺖ ﺳﮯ ﻣﺤﺮوم ﺗﮭﺎ۔ اس ﮔﮭﺮاﻧﮯ ﮐﮯ اﻓﺮاد اوﻟﯿﺎﺋﮯ ﮐﺮام ﺳﮯ ﻋﻘﯿﺪت رﮐﮭﺘﮯ ﺗﮭﮯ اور ان ﮐﯽ ﻣﺤﻔﻞ ﻣﯿﮟ ﺷﻮق ﺳﮯ ﺷﺮﯾﮏ ﮨﻮﺗﮯ ﺗﮭﮯ۔
ﺳﺮدار ﻋﻠﯽ ﺷﺎہ رﺣﻤۃ اﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﮐﻮ ﺟﺐ اس ﮔﮭﺮ ﮐﯽ ﺣﺎﻟﺖ ﮐﺎ ﻋﻠﻢ ﮨﻮا، ﺗﻮ آپ ﺑﻨﻔ ﺲِ ﻧﻔﯿﺲ ان ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﺗﺸﺮﯾﻒ ﻟﮯ ﮔﺌﮯ۔ وﮨﺎں ﭘﮩﻨﭻ ﮐﺮ آپ ﻧﮯ دﻋﺎ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﮨﺎﺗﮫ ﺑﻠﻨﺪ ﮐﯿﮯ اور ﺑﮍے ﺧﺸﻮع و ﺧﻀﻮع ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ان ﮐﮯ ﻟﯿﮯ دﻋﺎ ﻓﺮﻣﺎﺋﯽ۔ ﻗﺪر تِ ﺧﺪاوﻧﺪی ﮐﮧ ﮐﭽﮫ ﮨﯽ ﻋﺮﺻﮧ ﺑﻌﺪ اُس ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ اوﻻد ﮐﯽ ﺧﻮﺷﺨﺒﺮی ﺳﻨﺎﺋﯽ دی۔
ﯾﮧ واﻗﻌﮧ ﻧﮧ ﺻﺮف ﺳﺮدار ﻋﻠﯽ ﺷﺎہ رﺣﻤۃ اﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﮐﯽ روﺣﺎﻧﯽ ﻣﻘﺒﻮﻟﯿﺖ ﮐﯽ دﻟﯿﻞ ﮨﮯ ﺑﻠﮑﮧ اس ﺑﺎت ﮐﺎ ﺑﮭﯽ ﺛﺒﻮت ﮨﮯ ﮐﮧ اﻟﻠﮧ اﭘﻨﮯ ﻧﯿﮏ ﺑﻨﺪوں ﮐﮯ ذرﯾﻌﮯ ﻣﺎﯾﻮس دﻟﻮں ﮐﻮ ﺧﻮﺷﯿﺎں ﻋﻄﺎ ﻓﺮ ﻣﺎﺗﺎ ﮨﮯ۔
جب حضرت سید سردار علی شاہ گیلانی چشتی نظامی فخری نورانی پاکستان تشریف لائے تو آپ کے ہمراہ دو صاحبزادے بھی تھے جن کی عمر تقریباً 8 سے 15 سال کے درمیان تھی۔ آپ کے بڑے بیٹے نے کچھ دینی تعلیم حاصل کی، جبکہ آپ نے اپنے چھوٹے بیٹے سید منیر احمد شاہ کو دستِ نظامی کی سعادت بخشی۔
سید منیر احمد شاہ نے تقریباً گیارہ برس تک امامت کے فرائض انجام دیے۔ بعد ازاں حضرت سید سردار علی شاہ نے انہیں فنِ خطابت کی خدمت کے لیے تیار کیا۔ اسی دوران حضرت سید سردار علی شاہ کی سرپرستی میں ملک بھر میں محافلِ میلادِ مصطفی ﷺ منعقد کی گئیں، جن میں آپ نے اپنے صاحبزادے کو بھی شریک کرایا۔
ایک موقع پر جب سید منیر احمد شاہ کو خطاب کے لیے مدعو کیا گیا تو انہوں نے ایک ہی تقریر کو دوبارہ بیان کر دیا۔ اس پر حضرت سید سردار علی شاہ نے شفقت بھرے انداز میں ارشاد فرمایا:
"بیٹے! حضور ﷺ کی ایک نہیں، بے شمار شانیں ہیں، ہر بار نئی شان بیان کیا کرو۔"
یہ نصیحت ان کے لیے مشعلِ راہ بن گئی۔ اس کے بعد سید منیر احمد شاہ نے خطابت میں ایسی مہارت حاصل کی کہ آپ کا شمار عشقِ رسول ﷺ میں رچے بسے ممتاز مقررین میں ہونے لگا۔
وصال کے بعد حضرت سید سردار علی شاہ کے مسندِ خلافت پر انہی کے فرزندِ برومند سید منیر احمد شاہ فائز ہوئے۔ آج آپ کا مزارِ مبارک اپنے والدِ گرامی کے پہلو میں اہلِ محبت کے لیے مرکزِ فیض ہے۔
خواب میں یا نجی گر شکل دکھائی ہوتی ہے
تو یہ فرقت کی گھٹا مجھ پر نہ چھائی ہوتی ہے
آپ کا نور نہ وہ ہوتا اگر جلوہ نما
نہ سفیدی نہ سیاہی نہ ستائی ہوتی
میں سمجھتا کہ مجھے جنت فردوس ملا
تیرے دربار میں گر مجھ کو رسائی سوتانی
بیٹھا رہتا میں در پہ سدا بن کےفقیر
بادشاہی سے بھی بہتر یہ گدائی ہوتی
پختن پاک کی بخشش نہ اگر ہوتی وسیع کی اگر دوستی
گنہ گاروں کی نہ محشر میں رہائی ہوتی
دشت کربل میں شہادت نہ کر پاتے حسین
حق پرستوں کی نہ پھر راہنمائی ہوتی
کرم فرماتے نہ گر خواجہ محمد شاہ ولی
برکت آشفتہ کی مشکل نہ کشائی ہوتی